Popular Posts

Wednesday, January 31, 2018

محمد عامر کنیڈین باکسر پر ٹوٹ پڑھے

پاکستانی نژاد برطانوی باکسر محمد عامر بیوی کی توہین پر مخالف باکسر پر ٹوٹ پڑے پریس کانفرنس کے دوران مخالف باکسر نے محمد عامر کی اہلیہ کے متعلق نازیبا فقرہ کہا تو محمد عامر نے مخالف کنیڈین باکسر پر پانی سے بھر گلاس پھینک دیا

نہال ہاشمی کو عدلیہ مخالف تقریر مہنگی پڑھ گئ

سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی پر زمین تنگ کر دی . سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو توہین عدالت کیس میں 1 ماہ قید 50 ہزار روپے جرمانا کرنے کے ساتھ ساتھ 5 سال کے لیے نااہل کر دیا نہال ہاشمی کو عدلیہ مخالف تقریر کرنے اور بیان بازی پر توہین عدالت کے کیس کا سامنا تھا

کوہاٹ عاصمہ قتل کیس .

کوہاٹ عاصمہ رانی قتل واقعہ پر ایم این اے شہریار آفریدی کا بیان آگیا۔۔۔۔۔شہریار آفریدی کا کہنا تھا کوئی قانون سے بالاتر نہیں جب ہم قانون و انصاف کی بات کرتے ہیں تو اس پر عمل بھی کرتے ہیں قانون سب کیلئے ایک ہے چائے عمـــــران خان کیوں نہ ہو، ملزم کو پکڑ کر عبرت ناک سزا دی جائے گئی۔

کیا بڑے میاں کا پہلوان بازی جیت رہا ہے

چوہدری نثار کا دماغ درست کرنے کا انعام پرویز رشید کو چیرمین سینٹ بنانے کے لیے گرین سگنل کیا یہ سب میاں نواز شریف کی مرضی سے چوہدری نثار کے خلاف بیان بازی ہو رہی تھی یا چھوٹے میاں اور بڑے میاں نے اپنے اپنے پہلوان اکھاڑے میں اتارے ہوئے تھے اور اگر فرض کریں پرویز رشید چئیرمین سینٹ کے امیدوار منتخت ہوتے ہیں تو ان کا کیا رد عمل ہو گا جنہوں نے ڈان لیکس پر وزارت اطلاعات و نشریات سے پرویز رشید کو گھر بھیج دیا تھا اور چوہدری نثار علی خان اس مسئلے پر کیا رد عمل دیں گے کیا پرویز رشید سینٹ چئیرمین منتخت ہو سکتے ہیں جو ڈان لیکس میں شاید ملوث رہے ہوں اگر نہیں ملوث تھے تو کس کی جگہ ان کو قربانی کا بکرا بنایا گیا یہ سب سوال آنے والے وقتوں میں ن لیگ کے لیے تیار ہوں گے

سہیل احمد نے ساری حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

آپ میں سے اکثر نے پروگرام حسبِ حال کے نامور کردار عزیزی کو دیکھا ہوگا، سہیل احمد عزیزی مزاحیہ اداکار ہیں، پچھلے دس سال سے وہ ٹی وی سے وابستہ ہوگئے ہیں، اس سے قبل عزیزی تھیٹر میں کام کرتے تھے، اگرچہ مزاحیہ اداکار تھے لیکن بالآخر اندر کے سہیل نے عزیزی کو تھیٹر کو خیرباد کہا، سہیل عزیزی نے متعدد بار یہ بات کہی کہ پاکستانی تھیٹر انتہائی فحش اور گھٹیا ہے، کسی زمانے میں تھوڑے آزاد خیال لوگ فیملی کے ساتھ تھیٹر جاتے تھے،اب پاکستان کا تھیٹر مجرے سے آگے کی بات بن گئی ہے، زینب کیس پر ہر ایک اینکر، ڈنگر یا دانشور نے مختلف آراء پیش کیں، لیکن میڈیا پر پہلی دفعہ سہیل عزیزی نے وہ کچھ کہہ دیا ہے، جو عمران علی جیسے کردار بنانے کیلئے کی بنیاد ہیں، خاص کر لاہور کے تھیٹرز میں دو اور ڈھائی ہزار میں کام کرنے والی رقاصاؤں کا برہنہ ڈانس ہوتا ہے، عزیزی چونکہ خود اس انڈسٹری سے عرصے سے وابستہ رہے ہیں، یہی فحاشی انہیں اداکاری سے دور لے گئی، اور آج عزیزی ایک باوقار مزاحیہ پروگرام کررہے ہیں، عزیزی کا یہ ویڈیو کلپ گزشتہ روز کامران شاہد کے پروگرام کا ہے، جس میں بتایا کہ کیسے ان تھیٹرز سے اٹھنے والے جسنی درندے گلی گلی گھومتے ہیں، اور پولیس تھیٹر مالکان کی ملی بھگت سے یہ سارا کام کرواتی ہے، اکثر ایسے فحش تھیٹرز کی سرپرستی بااثر سیاسی لوگ کرتے ہیں، حکومت کو اگر زینب، ایمان فاطمہ اور اسماء کے دردیدہ لاشوں کا معمولی سا بھی احساس ہو تو کم از کم یہ چیزیں بند کرواسکتی ہے، پنجاب کے بعد سے سے زیادہ فحش، قبیح اور گندا تھیٹر خیبرپختونخواہ کا ہے، جہاں ٹرک پر لڑکیوں کی تصاویر لگانے پر پابندی تو لگ گئی ہے، لیکن اس کی اصل جڑ ابھی بھی موجود ہیں، سینما گھر دراصل قحبہ خانوں میں تبدیل ہوگئے ہیں، اور ارباب اقتدار اور "شہر کے شرفاء" وہاں سے خوب روکڑا کما رہے ہیں۔ عذیزی ہمیشہ بالی ووڈ کلچر کو پاکستان میں متعارف کروانے کے خلاف رہے ہیں، پاکستانی فلم انڈسٹری میں اگر کوئی شخص اپنے اندرونی میراثی پن کی وجہ سے نہیں، بلکہ ایک پروفیشن کے طور پر گیا ہے تو وہ اس ہوس کی فیکٹری سے ہمیشہ بھاگا ہے، بالی ووڈ ستر اور اسی کی دہائی سے نکل چکا ہے، اب بھارت میں سرِعام فری سیکس کمپین کامیاب ہورہی ہے، اور ان کا معاشرہ بہت جلد یورپ سے بھی گھٹیا ہورہا ہے، جبکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری اور میڈیا انڈسٹری مکمل طور پر بھارت کو کاپی کرتی رہی ہیں، اور بھارت کا اپنا حال یہ ہے کہ آج ممبی اور دلی دنیا کے ٹاپ ریپسٹ سٹیز کہلاتی ہیں، اصل جڑوں کو چھوڑ کر شاخیں تراشنا، یا پھر بہانے بنا کر ڈاکٹر شاہد مسعود کیلئے جے آئی ٹی بنا کر وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ ملک کے بڑے شہروں میں سرِعام حکومتی پرمٹ کے ساتھ چلنے والے ان قحبہ خانوں کو بند کیا جائے ۔

شوہر سے جان چھڑانے کا انوکھا طریقہ

ابوظہبی بیوی کا شوہر سے جان چھڑانے کا انوکھا انداز شوہر کی نیند کا فائدہ اٹھایا اور شوہر کے موبائل سے اپنے موبائل پر طلاق کے 3 پیغام بھیج دیئے اور صبح شکایت لے کر عدالت پہنچ گئی جبکہ شوہر کا کہنا تھا کہ میں نے طلاق کا پیغام دیا ہی نہیں پھر خاتون نے تسلم کر لیا شوہر سے جان چھڑانے کے لیے Sms خود لکھا تھا .

Tuesday, January 30, 2018

ایک غریب شخص اور اسکا اعلیٰ نسل گھوڑا اور چینی بادشاہ

چین کے ایک گاؤں میں ایک غریب شخص کے پاس اعلی نسل کا گھوڑا تھا اور وہ اسکا بہت خیال رکھتا تھا اسکا ایک جوان بیٹا بھی تھا اسکے گھوڑے کی شہرت بادشاہ کے کانوں تک بھی پہنچ گئی اور بادشاہ اپنے کارندوں کے ہمراہ اسکے گھر پہنچ گئے بادشاہ نے جب اتنا اچھا گھوڑا دیکھا تو اس سے کہا تمہیں اس کی منہ مانگی قیمت دی جاۓ گی غریب آدمی نے کہا میں اپنا گھوڑا نہیں بیچنا چاہتا بادشاہ نے قیمت بڑھاتے بڑھاتے ایک پورا شہر دینے کی پیشکش کر دی لیکن یہ آدمی نہیں مانا بادشاہ مایوس چلا گیا تو لوگوں نے کہا تم نے گھر آئ ھوئ قسمت کو ٹکرا دیا اس نے کہا میرا اپنا گھوڑا ھے میں نہیں دینا چاہتا اس میں بدقسمتی کا کیا کام کچھ دن بعد جب یہ آدمی صبح اٹھا تو گھوڑا غائب تھا لوگوں نے کہا اگر بادشاہ کو دے دیتے تو اب مزے کرتے اس نے کہا میرا گھوڑا تھا اب نہیں تو کیا ھوا ٹھیک ایک ماہ بعد گھوڑا واپس آیا اور جنگل سے اپنے ساتھ گیارہ گھوڑے مزید لے آیا جسے اس نے پکڑ کر باندھ دیئے لوگوں نے پھر کہا آپ بہت خوش قسمت ہیں اس نے کہا اس میں قسمت کا کیا گھوڑا تھا نہیں تھا اب دوبارہ ھے تو کیا ھوا اسکے بیٹے نے کہا میں ان کو سدھاتا ھوں اور سب سے خوبصورت گھوڑے پر بیٹھنے کی پریکٹس کرنے لگا لیکن گھوڑا جنگلی تھا ایسا اچھلا کہ اسکے بیٹے کی ٹانگ ٹوٹ گئی لوگوں نے پھر کہا تیری قسمت خراب ھے کہ جوان بیٹے کی ٹانگ ٹوٹ گئی اس نے کہا اس میں قسمت کا کیا کام اچانک جنگ چڑ گئی اور حکومت زبردستی جوانوں کو بھرتی کرنے لگی تو اسکے بیٹے کو چھوڑ دیا کیونکہ اسکی ٹانگ ٹوٹی ھوئ تھی لوگوں نے کہا تو بڑا خوش قسمت ہیں کہ تیرا بیٹا بچ کیا اس نے کہا پہلے میرا گھوڑا میں نے نہیں دیا تو تم لوگوں نے کہا کہ تو نے گھر آئ ھوئ قسمت کو ٹکرا دیا گھوڑا غائب ھوا تو کہا بدقسمت ہیں جب گھوڑا جنگلی گھوڑے ساتھ لے آیا تو کہا کہ خوش قسمت ھے بیٹے کی ٹانگ ٹوٹی تو کہا کہ تو بدقسمت ھے اب فوجیوں نے میرے بیٹے کو ٹانگ کی وجہ سے فوج میں زبردستی نہیں لے گئے تو اب کہتے ھو کہ تو خوش قسمت ھے تم لوگ ایک ھی بات کو خوش قسمتی اور بدقسمتی سے جوڑتے ھو اور اللہ تعالی کی مصلحت بھول جاتے ھو

Monday, January 29, 2018

دانتوں کی پیلاٹ سے نجات پائیں آزمودہ نسخہ

دانتوں کی پیلاہٹ سے پائیں نجات
: جہاں بے داغ چہرہ اور لمبے چمکدار بال انسان کی خوبصورتی اور شخصیت کیلئے اہم ہیں وہیں دانتوں کی چمک بھی پرکشش شخصیت کیلئے لازمی جزو ہے۔
دانتوں کو چمکدار بنانےکا دعویٰ کرنے والی بے شمار پراڈکٹ مارکیٹ میں دستیاب ہیں لیکن ان پراڈکٹ پر رقم خرچ کرنے کے بجائےآپ چند آسان اور کم خرچ ٹوٹکوں کے ذریعے اپنے دانت خوبصورت اور چمکدار بناسکتے ہیں۔
اگرآپ کے دانت پیلے ہیں توانہیں سفید اور چمکدار بنانے کیلئے نمک اور کھانے کاسوڈا ملا کر برش کریں اوراگر دانتوں سے خون آنے کی شکایت ہے تو شہد اور روغن زیتون ملا کردانتوں پرملنے سے دانتوں سے خون آنے کا سلسلہ رک سکتا ہے۔
سرسوں کے تیل میں ایک چائے کا چمچ نمک ملائیں، یہ تیل دانتوں پر لگانے سے دانت سفید ہوجائیں گے ۔
دانتوں سے نکوٹین کے پیلے داغ دور کرنے کیلئے دانتوں کو سوڈا بائی کاربونیٹ سے مانجھیں، لیموں کا چھلکا ملنے سے بھی دانتوں کی پیلاہٹ اور چائے کے دھبے دور ہوجاتے ہیں۔
لیموں کے چھلکے سکھا کر پیس لیں اور پھراس میں نمک ملالیں، دانت روزانہ اس سے صاف کرنےسے تمام میل دور ہوجائےگا، دانت چمکانے کیلئے کوئلے کا سفوف اور جلی ہوئی روٹی کی راکھ بھی مفید سمجھی جاتی ہے۔
روزانہ احتیاط سےاپنے مسوڑوں اور دانتوں کا معائنہ کریں،مناسب صفائی اوراحتیاط سے آپ کے دانتوں کی عمر طویل ہوجائےگی ۔
خوبصورت اور چمکتے دانتوں سے آپ کو ایسی دلکش مسکراہٹ حاصل ہوگی جو آپ کے پورے چہرے کو جلا بخش دے گی.

گرتے بالوں کا آسان گھریلو ٹوٹکہ

بال لمبے اور گھنے کرنے کے ویسے تو بہت نسخے ہیں تاہم اس کا ایک اور آسان گھریلو نسخہ پیاز کا استعمال بھی ہے جو کم خرچ اور زیادہ مشقت والا نہیں۔
قدرتی طور پر پیاز میں کمزور بالوں کو مضبوط بنانے اور انہیں ٹوٹنے سے بچانے کی خصوصیت پائی جاتی ہے۔ جبکہ پیاز بالوں کو لمبا کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا قدرتی حل بھی ہے۔
ایک درمیانے سائز کی پیاز کش کرکے اس میں ایک چمچہ شہد اور ایک چمچہ کسٹر آئل شامل کرلیجیے۔
اب ان اجزا کو اچھی طرح ملائیے اور تیار ہونے والے اس آمیزے کو تھوڑا تھوڑا کرکے بالوں پر لگا کر ایک گھنٹے کےلیے چھوڑ دیجیے۔ پھر کسی بھی شیمپو سے بالوں کو دھولیجیے۔ روزانہ اس آسان عمل کو کرنے سے بال لمبے ہوجائیں گے۔
پیاز کی بو خاصی ناگوار اور چبھتی ہوئی ہوتی ہے تاہم پیاز نہ صرف سر کی خشکی دور کرتی ہے بلکہ اپنے اینٹی آکسیڈنٹ خواص کی بدولت یہ سر کی سطح کا کھردرا پن دور کرکے خون کی روانی کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے .


رحمت دا دریا الہٰی تے ہر دم وگدا تیرا جے اک قطرہ

رحمت دا دریا الہٰی تے ہر دم وگدا تیرا جے اک قطرہ
بخشیں مینوں تے کم بن جاندا میرا تے سارے کہندے تیرا تیرا تے میں وی آکھاں تیرا تیرا تے مولا کج نہیں جاناں جو توں وی کہہ دے تیرا تے خس خس جتنا قدر نی میرا میرے صاحب نوں وڈیائیاں تے میں گلیاں دا روڑا کوڑا مینوں محل چڑہایا سایاں میں نیوا میرا مرشد اچا تے میں اچیاں دے سنگ لائی صدقے جاواں انہاں اچیاں کولوں جنہاں نیویاں نال نبھائی تے حجر تیرا جے پانی منگے تے میں کھوں نیناں دے گیڑاں او دل کردا تینوں سامنے بٹھا کے تے میں درد پرانے چھیڑاں تے سپنے وچ مینوں ماہی ملیا تے میں گل وچ پا لئیاں باہنواں تے ڈردی ماری میں اکھ نا کھولاں کتھے فیر وچھڑ نا جاواں تے سہہ سہہ جوڑے سنگت دے ویکھے تے آخر وتھاں پئیاں او جناں بنا اک پل سی نا لنگدا او شکلاں یاد نہ رہئیاں تے باغ تیرے دی راکھی کر کر تے میں ساری عمر گذاری تے جدوں پھل پکن تے آیا تے لے گئے ہور وپاری باپ مرے سر ننگا ہوندا تے ویر مرن کنڈ خالی ماواں باج محمد بخشا تے کون کرے رکھوالی بھائی بھائیاں دے درد ونڈاندے تے بھائی بھائیاں دیاں بانھواں تے باپ سراں دے تاج محمد ماواں ٹھنڈیاں چھاواں تے اچیاں لمیاں ڈالیاں تے گھنیاں جنہاں دیاں چھاواں ہر اک چیز بازاروں لبھدی تے نہیں لبھدیاں نے ماواں

ڈاکٹر شاہد مسعود کا جرم کیا ہے

ڈاکٹر شاہد مسعود کی ذات کی نفی کیوں ....؟ فرض کریں مان لیا جائے ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر غلط ہے تو کیا ان کی ذات کی نفی کرنا درست عمل ہے ڈاکٹر شاہد مسعود نے پوری پاکستانی قوم پر الزام تو نہیں لگایا ناں ڈاکٹر صاحب نے تو محض ایک مجرم عمران علی کی ایک سخت اور غیر جانبدارانہ انکوائری کا کہا ہے جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے اگر دیکھا جائے تو اس جیسے پہلے ہونے والے واقعات جن میں قصور کے 300 کے قریب بچوں سے زیادتی فاطمہ ریپ کیس میں بے گناہی میں مدثر نامی ایک مذدور کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دینا جبکہ DNA اب جا کر عمران علی سے میچ کر رہا ہے ناروے اور کنیڈا کی ایجنسیوں کی نشاندہی پر شیخوپورہ اور جھنگ میں FIA کے چھاپے فحش مواد بنانے وغیرہ میں ملوث ملزموں کی گرفتاری اس سب کو اگر غور و فکر سے دیکھا جائے کڑی سے کڑی ملائی جائے تو ایک عام آدمی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ یہ سب کسی ایک ایک فرد کا کام نہیں ہو سکتا تو اس وقت ایک صحافی ایک اینکر ایسے عمل کی نشاندہی ہی کر سکتا ہے کہ خدارہ اس مسئلے کو آسان نہ لیں اس پر محنت کریں سخت انکوائری کریں کہیں ایک اکیلے شخص کو پھانسی لگا کر باقی پورے گروہ کو اس قوم پر اور عذاب لانے کے لیے باقی نہ چھوڑ دیں بس اتنا سا جرم ہے ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہ اس نے ایک مافیا کی نشاندہی کی یا اس کا خدشہ ظاہر کیا اس میں ڈاکٹر صاحب کی ذات کی نفی کرنا اور ان پر بہتان لگانا اور گڑے مردوں کو اُکھاڑنا بیشک ایک گھٹیا اور گھناؤنا عمل ہے . اللہ پاک سے دعا ہے ہمارے پیارے ملک پاکستان کو عزت و استحکام نصیب فرمائے .

قرض دار اس وظیفے کو اپنا معمول بنا لیں

اس وظیفہ سے لاکھوں کا قرض دنوں میں ختم ہو گیا بیروز گاری ، ملازمت کا نا ملنا گھریلو پریشانیاں یا پھر کسی  بھی قسم کی تنگدستی ہو تو ایک ایسا...